شیلانگ 4مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مرکز نے شیلانگ میں نیم فوجی دستوں کی چھ اضافی کمپنیاں تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے جہاں کل رات دوبارہ تشدد کا واقعہ پیش آگیا تھا اور پولیس کو بھیڑ کو تیتر بتر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے تھے ۔ اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ شہر میں کے کئی حصوں میں آج چوتھے دن بھی عام زندگی متاثر رہی اور کرفیو لگا رہا ۔ شہر کے پنجاب لائن علاقے میں جمعرات کو ایک بس کے ملازم کی کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر پٹائی کر دی تھی جس کے بعد دو دھڑوں میں جھڑپ ہوئی تھی ۔ اس تشدد میں پولیس اہلکاروں سمیت دس سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے. ایک شخص کو اس سلسلے میں گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ پولیس ڈائریکٹر جنرل ایس بی سنگھ نے بتایا کہ میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ کے علاقوں میں سیکورٹی سخت کی جائے گی اور شورش کو ختم کرنے کی اضافی کوشش کی جائے گی۔سنگھ نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اضافی کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ سی آر پی ایف کی ایک کمپنی اورضلعی پولیس کے ساتھ ریاست کے 10 کمانڈو پہلے ہی صورت حال پر نظر رکھ رہے ہیں ۔ ضلع انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ رات پولیس کو پنجابی لائن علاقے سے محض چند میٹر دور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا پڑا تھا۔ بدلے میں مظاہرین نے رابرٹس ہسپتال کے قریب ایک پولیس اہلکار گاڑی الٹ دی اور ایک افسر پر سرعام حملہ کیا تھا ۔ میگھالیہ کے وزیر داخلہ جیمز سنگما نے لوگوں سے امن کی اپیل کی ہے اور انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو قانو ن و انتظامیہ کا خیال رکھنا چاہیے ؛کیونکہ حکومت پہلے ہی ان کی مانگیں تسلیم کر چکی ہے جس 31 مئی کو بس کے ملازم پر حملہ کرنے والے ملزمان کی گرفتاری بھی شامل ہے ۔